How Do I select A Psychological Research Topic? میں اپنی سائیکالوجی کی ریسرچ کا ٹاپک کیسے

Research Topic Selection

How Do I select A Psychological Research Topic?
میں اپنی سائیکالوجی کی ریسرچ کا ٹاپک کیسے سلیکٹ کروں؟

یہ وہ سوال ہے جو کہ بہت سے نفسیات کے طالب علم مجھ سے پوچھتے ہیں یا کافی سارے گروپس میں بھی سٹیٹش لگاتے ہیں کوئی اچھا سا ریسرچ ٹاپک بتائیں۔
ہزارہ یونیورسٹی مانسہرہ 2009 کو یہی سوال میں نے بھی اپنی ٹیچر Dr. Sobia Mashood سے بھی پوچھا تھا انھوں نے بتایا کہ آپ ایک یونیورسٹی سکالر ہو آپ کو پتا ہونا چائیے کہ ریسرچ کا ٹاپک کیسے مل سکتا ہے۔ مزید انھوں نے بتایا کہ یہ Common Senseکی بات ہے آپ خود محسوس کرو آپ کو کیا کیا مسائل نظر آرہے ہیں۔ نفسیات کا طالب علم ہو نے کے ناطے آپ کو زیادہ معلومات ہونی چائیے۔ خیر ان کے اس مشورے پر عمل کیا اور سوچنا شروع کیا کہ کیا کیا مسائل ہیں۔ اس وقت میں بذات خود اس مسلے سے دو چار بلکہ چھے آٹھ تھا وہ مسئلہ بے روزگاری کا تھا۔ گھر سے ہر بار پیسے مانگتا کہ اس سیمسٹر کے بعد نوکری مل جانی ہے۔ کہاں سے ملتی نوکری تجربہ کو ککھ نہ تھا۔ خیر مجھے میرا اپنا مسئلہ بہت زیادہ محسوس ہوا اور اپنے جسے باقی نوجوانوں کو بھی اسی مشکل سے گزرتے دیکھتا۔ ایک دن اخبار میں پڑھا کہ ملتان میں 3 بچوں کے باپ نے بے روزگاری سے تنگ آکر خود کشی کر لی۔ یہ خبر میرے مستقبل کے Thesisکی وجہ بنی میں نے میڈم کو مقالہ کو ٹاپک بتایا وہ یہ تھاRepaltionshion Among Suicidal attempt and Unemployment
یہ ایم ایس سی کے تیسرے سمیسٹر کی سوشل ریسرچ تھی جس کا Sample size 50رکھا گیا۔ آگے چل کر اسی ٹاپک کو Dr. Farhana Kazmiنے تھوڑا سا Modify کیا اور یہ ٹاپک "Unemployment As A Factor Of Sucidal Ideation In Hazara Division" بتایا اس پر کام شروع کیاBeck Scale for Suicidal Ideation BSSI کو اردو میں ترجمہ کیا پھر 20 لوگوں کا Sample لے کر اسے ٹیسٹ کیا گیا اور اس سکیل کی Cronbach Alpha .6آئی جو کہ ایم ایس سی لیول کے لیئے بہت اچھی تھی۔ 300 لوگوں کاsample ہری پور، ایبٹ آبا اور مانسہرہ سے لیا گیا۔ جن میں 150 بے روزگارے اور 150 روز گار والے لوگ تھے ایک ایک آدمی کے پاس جا کر فارم پُر کروائے لوگوں کے نخرے ٹخرے سنتا رہا ادھر سے ڈاکٹر فرحانہ سے بھی خوب ڈانٹ پڑتی بالآخر 17 بار کوشش کر کے ایک دن Ma'amنے کہا اب ٹھیک ہے۔ اس مقالے کے نتائج سے اخذ کیا گیا کہ بے روز گارے افراد میں روزگار والے افراد کی نسبت خود کشی کا رحجان زیادہ پایا جاتا ہے۔ پہلے دن سے لے کر آخر تک صرف مددDr. Farhana Kazmi اور سر شیر دل سے لی گئی اور Base ڈاکٹر صوبیہ مسعود نے بنائی اللہ تینوں کا بھلا کرے کہ مقالہ اس قدر اچھا تیار ہوا کہ ایک انٹرنیشنل جرنل میں شائع ہوا جس کا نام IJMRAہے اور ابھی تک 2200 لوگ Citationsدے چکے ہیں۔ اس ریسرچ کے چپے چپے سے واقف ہونے کی وجہ سے مجھے کسی بھی انٹرویو میں پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑا۔ بلکہ 27مارچ 2011 کو میراVivaہوا اور 31 مارچ 2011 کو میں ایک پرائیویٹ ادارے کے تعاون سے DHQ Hospital Bagh AJKمیں Psychologist appointہوا۔ یہ سب میرے اساتذہ کی بروقت محنت اور سختی کا نتیجہ تھا جس نے مجھےDependent نہیں ہونے دیا۔ اور پھر اس قدر ریسرچ سے محبت ہوئی کہ 5 سال تک Mohi Ud Din Islamic University Nerian AJKمیں ایم ایس سی کے طلبا کو ریسرچ پڑھاتا رہا۔
میری تمام نفسیات کے طالب علموں کو نصیحت ہے کہ نفسیات بہت بڑی فیلڈ ہے اسے Pure workکی ضرورت ہے اسے اپنا کام دیں اور اسی کی بنیاد پر آپ کا مستقبل بھی شاندار ہو سکتا ہے۔ زیادہ تر دیکھنے میں آیا ہے وہی ریسرچز بار بار دہرائی جا رہی ہیں کیوں کہ یونیورسٹیوں سے ڈیٹا لینا بہت آسان ہوتا ہے اور پاکستانی ریسرچز کے ٹاپک بھی اتنے معیاری نہیں ہوتے۔ کیونکہ طالبا جان چھڑانا چاہتے ہیں۔ جبکہ اساتذہ کام کروانا چاہتے ہیں۔ جن لوگوں نے ایم ایس سی میں ریسرچ کے ساتھ بے وفائی کی ہوتی ہے یقین کریں اہم فل میں ان کو بہت مشکلات کا سانا کرنا پڑتا ہے اس لیئے Realistic approachاپنائیے وقت بے شک لگے گا۔ والدین کا پیسہ پہلے بھی کافی خرچ کر چکے ہوتے ہیں آخری سیمسٹر میں کاپی پیسٹ ہمیں کسی کام کا نہین چھوڑتا۔ بے شک ہمار

Drugs Abuser Boy and Psychologist

Drugs Abuser Boy and Psychologist

نفسیات دان اور نشہ کا عادی نوجوان:

چند سال قبل میں راولپنڈی میں رہائش پذیر تھا۔ ساتھ چوک میں ایک ہوٹل پر کھانا کھانے کے بعد رات گئے خبریں اور تبصرے سنتا رہتا تھا۔ وہیں پر 4 ڈھول والے چچا لوگ آتے اور دن بھر کی کمائی کا حساب کرتے ساتھ ہی کھانا کھاتے اور پھر چلتے بنتے۔ میں اکثر ان کی تلخ کلامی اور صلح ہوتے دیکھتا تھا۔ ایک دن چچا خالد (فرضی نام) کو باقی تینوں نوجوان ساتھی کافی سختی سے پیش آ رہے تھے۔ وہ بار بار کہہ رہے تھے یار آج کا حساب پورا کر دو لیکن باقی دوست نہیں مان رہے تھے۔ کیوں کہ وہ بلکل میری سامنے والی میز پر بیٹھے تھے اس لیئے میں نے ان سے پوچھ لیا کیا مسئلہ ہے کافی وقت سے آپ لوگ لڑ رہے ہیں۔ تو ایک نوجوان نے بتایا کہ آج چچا خالد کام پر بہت دیر سے آئے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ حساب کے برابر پیسے دیں۔ چچا خالد میرے بولنے سے پہلے ہی بول پڑے کہ میں دیر سے اس کی بیوی کی وجہ سے آیا ہوں۔ کیوں کہ اس کی بیوی میری بہن ہے جو کہ آج کل بیمار ہے اور اسے میں ڈاکٹر کے پاس لے گیا تھا اور ان کے ساتھ اپنا چھوٹا بیٹا بھی بھیجا تھا لیکن یہ نہیں مان رہے۔ اب بتاؤمیرا حساب برابر ہونا چائیے کہ نہیں۔ خیر ان کا معاملہ حل ہوا کہ آج چچا خالد کو پیسے پورے ادا کیئے جائیں اور آئیندہ یہ جب بھی لیٹ ہوں گے تو اس حساب سے پیسوں کی کٹوتی ہوا کرے گی۔ ان سب میں کوئی بھی پڑھا لکھا نہیں تھا جس کی وجہ سے ان کے حساب میں کافی وقت لگ جاتا تھا۔اس دن کے بعد یہ چاروں ہوٹل پر آجاتے اور مجھے کہتے کہ ہمیں حساب کر دو۔ میں اب روز ان کا اکاؤنٹنٹ بنا ہوتا۔ روز کی آمدنی کیا تھی صرف 2 سے ڈھائی ہزار روپے کبھی 500 اور کبھی 700 فی کس بن جاتا۔ چچا خالد کافی بوڑھے تھے ایک دن کہنے لگے ہمارے ایک ساتھی کی شادی ہے آپ کو ہم دعوت دیتے ہیں آنے کی۔ میں نے کہا چچا میرا آنا تھوڑا مشکل ہے میں نہیں آ سکوں گا کیوں مجھے چھٹی نہیں ملتی کہنے لگے آپ اتوار کے دن آنا اور گھر بھی یہ پاس ہی ہے۔ اگلے دن انھوں نے دوبارہ کہا پھر ہفتے کے روز صبح آنا ہے آپ نے۔ بس ان کے بار بار اصرار پر مجھے جانا ہی پڑا۔ اگلے روز اتوار کو میں ان کے گھر گیا۔ گھر کیا تھا ایک جھونپڑی تھی چھت پر مختلف قسم کے بینرز پڑے تھے۔ کافی تعداد میں لوگ جمع تھے جن میں میرے جاننے والے یہ چار ہی تھے۔ اور میری کوشش تھی کہ ان کہ پاس ہی رہوں اور جتنا جلدی ہو چلا جاؤں۔ اتنے میں ایک لڑکا آیا جو عمر میں میرے جتنا ہی ہو گا اس کی آواز اس قدر نرغلی تھی جیسے ابھی کوئی نشہ کر کے آیا ہو، رنگ پکا سانولا اور جب بیٹھا تو اس کا ناڑا پنڈولم کی طرح ہلتا ہوا نظر آ رہا تھا جس کے اوپر بہترین قسم کی زری کڑھائی ہوئی ہوئی تھی۔ گلے کے بٹن کھلے تھے سفید بنیان کو اوپر گلابی رنگ میں انگریزی لفظ M واضح لکھا تھا ساتھ میں گلاب کا پھول جو میری کوشش کے باجود پورا نظر نہیں آ سکا۔ جسامت اس قدر کمزور تھی کہ پسلیاں ساری گنی جا سکتی تھیں۔ کہنے لگا چچا خالد میرے والد ہیں اور وہ اپنے والد کا مہمان ہونے کی وجہ سے کافی عزت دے رہا تھا۔ میں نے اس کا نام پوچھا تو طاہر (فرضی نام) بتایا۔ مجھے کہنے لگا آ پ کیا کرتے ہو تو میں نے بتایا ایک سکول میں پڑھاتا ہوں۔ کہنے لگا استادو میرے لیئے بھی کوئی کام دیکھو۔ میں نے کہا آپ کی تعلیم کتنی ہے کہنے لگا 10 جماعتیں پاس کی ہیں۔ لیکن کوئی نوکری نہیں ملی ابا جی کے ساتھ کام پر جانے سے مجھے شرم آتی ہے۔ کہنے لگا آپ کو تو پتہ ہے آج کل کون ڈھول ڈھمکہ کرتا ہے۔ اتنے میں چچا خالد آئے اور کہنے لگے نوید بھائی یہ میرا بیٹا ہے اس کے لیئے نوکری بتائیں اتنے میں طاہر اٹھ کر چلا گیا پھر کہنے لگے یہ چرس بہت پیتا ہے۔ پہلے سے گھر کا خرچ نہیں چلتا یہ سارا دن سویا رہتا ہے اور عصر کے بعد گم ہو جاتا ہے آوارہ لڑکوں کے ساتھ چرس پی کر گھر آتا ہے۔ میں نے کہا جی اچھا میں جوں ہی کوئی نوکری نظر میں آئی تو ضرور بتاؤں گا۔ پھر جب واپس آنے لگا تو طاہر کا نمبر وغیرہ لے لیا۔ اگلے دن میں نے ایک میڈیکل سٹور پر پڑھا Daily Wages workers کی ضرورت ہے میں نے میڈیکل سٹور والے سے بات کی اس نے کہا جی آپ لڑکے کو بلائیں اگلے دن جب طاہر آیا تو اس کا حلیہ دیکھ کر سٹور والے نے نہیں رکھا پھر مجھے کہنے لگا یار آپ بھی کمال کرتے ہو اس چرسی کو رکھوں کل وہ سب بیچ کر بھاگ جائے تو کون زمہ دار ہو گا۔ خیر اسی دوران ایک کراکری والے سے بات ہوئی وہ پہلے سے ہی طاہر کو جانتا تھا کہنے لگا یار وہ ایک نمبر کا بد معاش ہے اور (گھٹیا انداز میں) اس کے والد کے شعبے کا کہا کہ ان لوگوں کو کسی کی عزت کا خیال کہاں کل میری دکان کنجر خانہ بن جائے گی۔ مجھے بہت دکھ ہوا اور ساتھ سوچتا رہا کہ آخر طاہر اتنا بدنام کیوں ہے۔ اس میں کچھ وجوہات اس کے حلیہ اور بات چیت کے انداز کی بھی تھیں لیکن طاہر کافی motivatedتھا کہ اسے کوئی نوکری ملے جسے وہ خلوص دل سے کرے گا۔ میں نے طاہر کو کال کر کے پوچھا طاہر آپ نے تعلیم کیوں چھوڑی کہنے لگا غریب ہوں اس لیئے میں نے اسے اسی ہوٹل پر آنے کو کہا اور یہاں سےInterventionشروع ہوئی۔ Deeply Interview لیا کہ کیا وجہ ہے کہ طاہر نشے پر لگا جس کی وجہ کوئی خاص نہیں تھی بس دوستوں کے ساتھ شوقیہ چرس پیتا تھا اور دوستوں کے ساتھ اپنے اپنے عشق کی کہانیاں سنتا اور سناتا تھا۔ خیر میں نے بتایا غریب ہیں تو کیا ہوا آپ ایسے کرو علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں گیارہویں جماعت کا داخلہ لے لو کہنے لگا مجھ سے انگریزیاں کہاں پڑھی جائیں گی میں نے کہا کوئی بات نہیں میں پڑھاؤں گا آپ ایک بار داخلہ تو لو۔ خیر اس نے داخلہ لینے کا ارادہ کر لیا اور چند ماہ بعد داخلے شروع ہوئے تو میں نے طاہر کو بتایا وہ میرے پاس آیا کہ کیا کروں کیسے داخلہ لوں میں نے کہا چلو میں آپ کے ساتھ جاؤں گا آپ پراسپیکٹس لینا اور ویسے عمل کرنا جو جو لکھا ہو۔ اگلے روز ہم AIOUکے مین کیمپس گئے اور اس دن پہلی بار میں نے طاہر کو صاف ستھرا دیکھا۔ پھر چند ماہ بعد اس کی کتابیں آ گئیں اسے میں نے بتایا کہ آپ عصر کے وقت آیا کرنا اور مغرب تک پڑھائی کریں گے کیوں کہ عصر کا وقت ہی وہی تھا جب وہ دوستوں کی محفل میں جاتا تھا۔ میرا مقصد اسے بغیر بتائے اس کے دوستوں سے دور کرنا تھا تا کہ اسے چرس کا موقع نہ ملے وہ روز آتا کبھی سہگل کی پہلی اڑان کی کہانی اردو اور انگریزی میں بتاتا اور کبھی شاہد آفریدی کا مضمون اپنے الفاظ میں سناتا۔ بالآخر ایک ماہ بعد مجھے اندازہ ہوا کہ طاہر اپنے دوستوں کے پاس نہیں جاتا البتہ اس کے عشق کی کہانی میں بڑے شوق سے سنتا۔ پھر چند دنوں بعد اسے کہا کہ آپ اپنے والد اور ان کے دوستوں کا حساب کتاب کیا کرو۔ اس طرح طاہر اور چچا خالد کی Communicationکافی بہتر ہو گئی۔ اب طاہر کی زبان اور لہجہ بھی کافی تبدیل ہو رہا تھا استادو کے بجائے نوید بھائی کہنے لگا تھا۔ صرف کالے کپڑوں کے بجائے سفید اار مختلف رنگ کے کپڑے بھی پہنتا اور میں اس کی ہر چیز کوAppriciateکرتا بلکہ میں اس کا ایک قریبی دوست بن چکا تھا۔ اس دوران بہت سی اور بھی باتیں ہوئیں جو کہ ایک تحریر میں لکھنا ممکن نہیں۔ ایک دن میں F/8 مرکز میں دیواروں سے نوکریوں کے اشتہار پڑھ رہاتھا۔ ایک نئی دکان کھلی تھی جن کو Sales manکی ضرورت تھی میں نے طاہر کو بتایا آپ نے اس دکان پرآنا ہے وہ آ گیا لیکن اس بار طاہر نے صاف ستھری شلوار قمیض پہن رکھی تھی اور ایک پڑھا لکھا لگ رہا تھا۔ میں دیکھتے ہی بہت خوش ہوا کیوں میں نے طاہر کے اندر بہت چھوٹی چھوٹی تبدیلیاں نوٹ کی تھیں۔ اس کی نرغلی آواز بھی کافی بہتر ہو چکی تھی۔ اسی دن اسی دکان پر اس کی نوکری بھی ہو گئی جو کہ 14000 روپے تھی جو کہ اس وقت کے اعتبار اور ایک غیر تجربہ کار کے لیئے بہت زیادہ تھی۔ پھر آہستہ آہستہ میری اور طاہر کی ملاقات بھی کم ہو گئی طاہر صبح جاتا اور رات کو واپس آتا اسے فالتو وقت ہی نہیں تھا اس کے والد سے میں نے ایک دو بار پوچھا تو کہنے لگے ہاں وہ اب چرس نہیں پیتا بلکہ سیگریٹ بھی نہیں پیتا مجھے ہر مہینے 5000 روپے دیتا ہے۔ اور بتانے لگے اسے موٹر سائیکل کا شوق تھا تو دکان مالک نے اسے قسطوں پر ایک بائیک بھی لے کر دی ہے۔ یقین کریں دل کو بہت تسلی ہوئی۔ ایک ماہر نفسیات ہی چھوٹی چھوٹی بات Measureکر سکتا ہے۔ میری تمام دوستوں سے گزارش ہے کہ جلد بازی سے کام نہ لیا کریںPsychologistsایک دن میں ہی نتائج نہیں دے سکتے اس کے لیئے کافی وقت درکار ہوتا ہے اس لیئے جب اپنا مریض لائیں تو اپنے ماہر نفسیات کو کام کرنے دیں اور اس کیPrognosis سائکالوجسٹ سے پوچھیں نہ کہ اپنے مریض سے۔ آپ کا مریض خود میں تبدیلی نہیں محسوس کرسکتاجتنا اس کامعالج محسوس کرتا ہے۔
بے شک تعلیم اور بہترین رہبری زندگی بدل سکتی ہے۔
مندرجہ بالا تحریر عوام میں تعلیم اور نفسیاتی علاج کی اہمیت اجاگر کرنے کے لیئے شائع کی گئی ہے۔ اس میں تمام کریکٹر اور جگہ کا نام فرضی ہے۔