نفسیات دان اور نا معلوم کلائینٹ:

Psychologist and Unknown Client

 

 

نفسیات دان اور نا معلوم کلائینٹ:
ایک دن مجھے ایک کال آئی بڑی گرج دار آواز میں ایک آدمی نے میرا نام اور کام اور آفس کا پتہ پوچھا۔ پھر کہنے لگے کہ میں نے آپ کا نمبر انٹرنیٹ سے لیا اور آپ سے ملنا چاہتا ہوں۔ میں نے ڈیوٹی اوقات کار بتائے اور کہا کہ اس دوران آپ آ سکتے ہیں۔ کہنے لگے نہیں میرا مسئلہ ایسا ہے کہ میں آپ کے دفتر نہیں سکتا میں آپ کی رہائش پر آ جاتا ہوں۔ میرے دل میں تھوڑا شک سا ہوا کہ ایک اجنبی میرے دفتر بھی نہیں آنا چاہ رہے اور ایک دم سے میری رہائش پر کیسے آنے کا کہہ سکتا ہوں۔ میں نے ان کو بتایا ایسا کرتے ہیں کہ مجھے کسی ہوٹل میں مل لیں کہنے لگے نہیں ہوٹل میں بھی نہیں آسکتا۔ میں نے کہا آپ دفتر نہیں آ سکتے ہوٹل نہیں آسکتے تو میں آپ کو سروس کیسے دے سکتا ہوں۔ کہنے لگے میں نہیں چاہتا کہ کوئی میرا جاننے والا مجھے دیکھے کہ میں نفسیاتی علاج کروا رہا ہوں حالانکہ میں نفسیاتی نہیں ہوں۔ مجھے پھر کچھ اندازہ ہوا کہ واقعی کوئی مسئلہ ہے۔ مجھے کم سے کم ان کو مل لینا چائیے۔ میں نے ان کو بتایا کیا آپ F-9پارک میں مل سکتے ہیں کہنے لگے ہاں میں آ جاؤں گا تو پھر میں نے ان کو 3 دن بعد کا وقت بتایا کہ ہم 5:30پر ملیں گے۔ دفتر سے چھٹی کے بعد میں سیدھا پارک پہنچا اور ان کو کال کی۔ کہنے لگے میں تو گیٹ پر ہوں آپ یہاں آ جاؤ مجھے تھوڑا سا پھر شک پڑا کہ کیسا بندہ ہے جو اب پارک میں بھی میری بتائی ہوئی جگہ پر نہیں آ رہا۔ خیر دماغ میں 50 قسم کے سوال لیئے میں گیٹ پر گیا۔ وہاں ایک انتہائی بارعب تقریبا 50 یا 52 سالہ Attravtive Assertive Personality والا انسان Black Suit میں کھڑا تھا۔ میں dilemma نظریں لیئے پاس سے گزرنے لگا تو ایک دم سے بولے نوید سلطان؟ میں رکا اور بولا جی اور اچانک ہی کہا سر میں نوید ہوں۔ پھر ہم Formal سی سلام دعا کے بعد گیٹ کے قریب ہی بینچ پر بیٹھ گئے۔
میرے مائنڈ میں زرا سا بھی شک نہ تھا کہ میرے مستقبل قریب کے کلائینٹ ہیں میں تو سوچ ہی رہا تھا کہ آخر کیوں بلایا گیا۔ پھر خاموشی خود ہی انھوں نے توڑی اور پوچھا نوید آپ اپنے بارے میں بتاؤ میں نے اپنا تعارف کیا پھر پوچھا سر آپ کون ہیں؟ اور مجھے کیوں بلایا ہے؟ انھوں اپنے بیگ سے پانی نکالا اور پینے کے بعد اپنا سروس کارڈ دکھایا۔ جسے دیکھنے کے بعد میرے دماغ میں اور بھی سوالات اٹھنے شروع ہو گئے۔ خیر انھوں نے خود ہی کہا مجھے شوگر کا مرض ہے ساتھ میں دل کا مریض بھی ہوں عمر 53 سال ہو چکی اور ہمت نہیں ہوتی کہ اتنا چل پاؤں اسی لیئے آپ کو تکلیف دی اس کے لیئے سوری۔ میں پھر تھوڑا مطمئن سا ہوا۔ اور میں نے Rapport buildingکے لیئے پوچھا سر کیا آپ مجھے اپنے بارے میں بتا سکتے ہیں کہ کیوں ملنا چاہتے تھے؟
یہاں سے ہمارا ایکFormal sessionشروع ہوا۔ انھوں نے بتایا کہ ان کی شادی ہوئی 15 سال بیوی کے ساتھ گزارے لیکن اولاد پیدا نہ ہوئی۔ ایک دن گھر میں بیوی کو کسی نے طعنہ دیا کہ تیرے ساتھ پھل نہیں لگنا۔ اس طعنے کی وجہ سے میری بیوی بہت زیادہ پریشان ہوئی اور خود کو آگ لگا دی۔ آگ کی وجہ سے 60% جل گئی اور جلنے کے پانچویں دن وفات پا گئی۔ مجھے میری بیوی سے بہت پیار تھا وہ میری ایک بہترین دوست تھی وہ بہت تکلیف میں تھی اسے پتہ تھا وہ مر جائے گی لیکن پھر بھی آخری دم تک میری فکر کرتی رہی۔ اس کے مرنے کے بعد میں بہت تنہا ہو گیا اورڈپریسن مین چلا گیا بعد ازاں Psychotropics Medicines لینا شروع کر دیں۔ پھر کچھ عرصہ بعد میری شادی کروا دی گئی اور نئی بیوی سے بھی کوئی اولاد نہ ہوئی شادی کو 5 سال ہو گئے ہیں میں اور بیوی دونوں ڈاکٹر کے پاس گئے لیکن کوئیMedically مسئلہ سامنے نہ آیا۔ مجھے میرے Colleagueنے بتایا کہآپ کسی ماہر نفسیات سے مشورہ کریں کیوں کہ اب وہی علاج رہ گیا ہے۔ میں نے دفتر میں ہی بیٹھے ماہرین نفسیات Searchکیئے لیکن تمام خواتین تھیں آپ کی تصویر بار بار سامنے آرہی تھی۔ میں نے کافی Ignoreکیا سوچا یہ کوئی بچہ ہے اسے میں اپنا مسئلہ کیسے بتاؤں گا۔ خیر میں نے اپنے ایک دوست کو کہا یار کسی Male psychologistکا بتاؤ اس نے آپ کا نمبر دیا جو کہ اس نے بھی نیٹ سے ہی لیا تھا اور جب اس نے نام بتایا تو میں نے کہا یار کسی Matureسے بندے کا نمبر دو تو وہ کہنے لگا آپ اسی کو ملیں تو میں نے پھرآپ سے رابطہ کیا۔
میں نے ان کو کہا سر اصل میں آپ کا مسئلہ ضرور ہے لیکن ہر مسئلہ سے گزنے والے انسان کو ہم نفسیاتی نہیں کہہ سکتے۔ یا جہاں نفسیات والےInvolveہوں ضروری نہیں کہ وہ نفسیاتی لوگوں کو ہیDealکرتے ہیں۔ دیکھیں جیسے پاکستان کیForces میں Recruitment and Selection processمیں نفسیات دان ہوتے ہیں کیا وہ نفسیاتی لوگوں کوSelectکرتے ہیں؟ اس بات پر وہ زرا سا مسکرائے کہنے لگے اچھا چلو بتاؤ تیرا دفتر کہاں ہے؟ میں کہا اب میرا دفتر یہی پارک ہے آئیندہ ادھر ہی آؤں گا لیکن جوAssignmentدوں گا وہ آپ کو کرنی ہو گی۔ پہلی ملاقات First assessment session ختم ہو اور میں واپس اپنی رہائش پر آیا۔ 1 ہفتے بعد ان کی کال آئی کہ ہفتے کےدن ملیں گے۔ میں نے کہا جی ٹھیک شام 4 بجے ملتے ہیں۔ دوران سیشن میں نے ان سےLikert Scale اورBase Lineچارٹ وغیرہ بھی بنائے دن بہ دن Development لکھتا رہا۔ لیکن Main problem تو SpouseDeath اور بے اولادی کی وجہ سے Depression تھا۔ جس کو Normalکرنے کے لیئے مجھے ان کی ایک ایک سعگرمی پر کام کرنا تھا۔ اس دوران میری ان کے ساتھ دوستی ٹائپ سی ہو گئی جو کہ میرےProfessional work میں بڑی مدد دے رہی تھی۔ اب وہ مجھے کالز بھی کر لیتے اورAssignments کا بتاتے۔ اسی دوران Open Discussionکرتے کرتے کہی بار پارک سے Centaurusتک پیدل آ جاتے۔ اورجوں جوں Sessions proceed ہوتے گئے وہ شوگر اور سابقہ بیوی کے بارے کم باتیں کرتے۔ میرے مقاصد اپنے تھے ایک یہ کہ وہ اپنی موجود بیوی کی طرف راغب ہوں اور ان کے اندر Libidoپیدا ہو۔ اسی دوران Centaurus میں جوانی پھر نہیں آنی فلم لگی تھی میں نے ان کو Assigmentدی کہ اس فلم کو دیکھنے کے بعد اسے اپنے الفاظ میں لکھیں اور اس میں جو باتیں ان کو پسند آئیں وہ مجھے بتائیں۔ وہ فلم ہم دونوں نے دیکھی اور بہترین Assignmentبنائی۔ مجھےPrognosisدیکھ کر بہت خوشی ہوتی لیکن میں ان سے ابھی تک ازدواجی تعلقات کے بارے میں سوال کرنے سے قاصر تھا۔ ایک دن میں نے ایک کتاب میں پڑھا کہ کدو کھانے سے انسان کے اندر جنسی خواہشات پیدا ہو سکتی ہیں اور بھی بہت سے فوائد بتائے گئے تھے۔ کیوں کہClient compliance بہت اچھی تھی اس لیئے میں نے ایک دن کال کر کے بولا سر آپ کے پاس پھلوں کا رس نکالنے والی مشین ہو گی؟ کہنے لگے ہاں ہے لیکن میں اس سے گاجر کا رس پیتا ہوں۔ یہاں سے مجھے اندازہ ہو گیا کہ وہ آرام سے کدو کا رس بنا لیں گے۔ کدو کے رس کے Rationaleدینے کے لیئے میرے پاس حدیث مبارکہ بھی تھیں ان کو میں نے بتایا سر آپ کو شائد زائقہ پسند نہ ائے لیکن آپ روزانہ دن کو 10 بجے کے قریب کدو کا Nector نکال کر پیا کریں اور مجھے ازداوجی زندگی کا بھی Likert Scaleبنا کر دیں۔(لوکی/کدوکا نفسیات کے علاج کے ساتھ تعلق تو کوئی نہیں ہے اور نہ ہی مجھے اس کیChemcial Properties کا پتہ ہے لیکن Placebo کے طور پر بہترین کام کیا۔ ) خیر انھوں نے اس کا استعمال 2 ماہ تک کیا۔ اور رفتہ رفتہ میں نےSessions windupکر دئیے۔ پھر تقریبا 1 سال بعد ایک دن میں فیض آباد میٹرو پل پر کھڑا تھا مجھے کال آئی اور پکے پنجابی لہجے میں بولے نویدے کتھے ہیں توں میں نے کہا سر میں فیض آباد میٹرو پل پر ہوں اور حال حوال پوچھنے لگا کہنے لگے توں اتھے ہی رک میں zero pointسے آرہا ہوں۔ کچھ دیر بعد وہ انسان جو 2 سال پہلے فاطمہ جناح پارک کے گیٹ سے اندر نہ آئے۔ شرم کی وجہ سے میرے دفتر نہ آئے آج میٹرو کی آئینی سیڑھیوں سے دب دب کرتے اوپر آئے ان کے قدموں کی آواز سے مجھے اندازہ ہوا کہ کوئی خاص بات ضرور ہے جو یہ آج ایسے چل کر آرہے ہیں۔ آتے ہی مجھے گلے لگایا بولے نوید پتر اللہ نے مجھے ایک بیٹی عطا کی ہے۔ اللہ تجھے سلامت رکھے۔ میری آنکھوں میں خوشی اور میری کامیابی کے آنسو بیک وقت آنا شروع ہو گئے۔

جو زات ہمیں مرض دیتی ہے وہی شفا بھی دیتی ہے۔
مندرجہ بالا کیس عوام کے اندر نفسیاتی علاج کی اہمیت اجاگر کرنے کے لیئے کلائینٹ کی مرضی سے شائع کیا ہے۔