میرا ایک ناکام کیس جس کا افسوس زندگی بھر رہے گا:

Unsuccessful Case

میرا ایک ناکام کیس جس کا افسوس زندگی بھر رہے گا:

2012 میں اسلام آباد میں ایک نفسیاتی ادارے میں کام کرتا تھا تب میرے والد محترم نے کال کی کہ نوید میرے پاس ایک فیملی آئی ہے اور بتاتے ہیں کہ ان کا بیٹا نشہ کرتا ہے اور کہے رہے ہیں کہ آپ کا بیٹا نفسیات کے ساتھ وابسطہ ہے تو اس سے پوچھ کہ بتائیں کہ ہم کیا کریں۔
میں نے بتایا کہ اسے آپ میرے پاس لے آئیں تا کہ Assessmentکی جا سکے۔ میں اور میرے ساتھیوں نے مہتاب (فرضی نام) کی Assessmentکی اور فیملی سے بھی Deeply Interview کیا گیا۔ جس کے نتیجہ میں ہمیں پتہ چلا کہ مہتاب کے خاندان میں پہلے بھی ایک نفسیاتی مرض شقاق دماغی Schizophrenia رہ چکا ہے جس کی وجہ سے مہتاب میں بھی علامات ظاہر ہو رہی ہیں۔ جب اس کے نشہ کے بارے میں تفتیش کی گئی تو چرس پیتا تھا اور چرس بذات خود نقصان دہ ضرور ہے لیکن مہتاب پر اثر کچھ زیادہ ہی تھا اور ساتھ میں گھر والے ضرورت سے زیادہ ہی مہتاب پر الزامات لگا رہے تھے۔ خیر ہم نے مہتاب کو 3 ماہ کے لیئے رکھ لیا اور میں اس Behavioral Theraputic Interventionکا زمہ دار تھا اور مہتاب کا خاندانی پس منظر بھی اچھی طرح جانتا تھا اس لییے یہ کیس میرے لیئے انتہائی اہمیت کا حامل تھا۔ 15 دنوں کے بعد ہم اس قابل ہو گئے کہ مہتاب کو کہاں زیادہ مسئلہ آ رہا ہے جس میں اس کا Genetic contribution کم اور Social stressesبہت زیادہ تھے۔ جن میں بے روز گاری اور فیملی Conflicts زیادہContributorsتھے۔ تو ہم نے اس کی فیملی کو بلا کر بتایا کہ آپ کا بیٹا چرس اتنی نہیں پیتا کیوں کہ اس ک پاس پیسے ہی نہیں ہوتے اور نہ ہی چوری کا چانس ہوتا ہے۔ اور چوری کرنا اس کے لیئے مشکل ہے کیوں کہ یہSelf Awared Stageپر ہے اس لیئے آپ اسے چرسی اور پاگل کہے کر مزید پریشان مت کرنا۔ آپ کی سپورٹ کی اسے ضرورت ہے لہذا تقریبا120000ہزار روپے لگا کر اس کا علاج کروانے کے بجائے آپ اس کا علاج 2 ماہ تک کریں اور 40000 روپے سے اس کو سبزی کا ٹھیہ لگانے دیں۔ کیوں کہ اسے سبزی فروشی میں تجربہ بھی ہے۔ خیر مہتاب کا خاندان بلکل بھی کسی بات پر رضامند نہ ہوا بلکہ کہنے لگے کہ آپ لوگ بھی اس کی باتوں میں آگئے۔ خیر ہماری ٹیم نے Assessment report مکمل کی اور Recommendation میں Family Compliance لکھا گیا کیوں کہ فیملی کمپلائنس کے بغیر Prognosisبالکل نظر نہیں آ رہا تھا۔ ساتھ میں یہ بھی بتایا کہ مہتاب کے غصہ کو زیادہ طیش نہ دی جائے۔ اور جب اسے غصے کا دورہ آئے تو اسے فورا کم کرنے کی کوشش کریں اور غصہ سے نمٹنے لے لیئے میں نے خود تقریبا 3 سیشنز لیئے۔ خیر 3 ماہ کے بعد مہتاب کو گھر لے گئے 1 سال تک سب اچھا رہا لیکن بے روزگاری، خاندانی مسائل پھر Relapseتک لے ائے۔ میں گاؤ ں گیا رمضان کے مہینے میں کچھ ہی دن باقی تھے مجھے مہتاب ملا اور اپنے گھر والوں کے شکوے بتائے پھر میں نے مہتاب کو بتایا کہ رمضان میں آپ روزے بھی رکھتے ہو نسوار بھی ڈالتے ہو۔ اس لیئے آپ کو نہ چاہتے ہوئے بھی غصہ آنا ہے کیوں نہ میں آپ کی کہیں نوکری کی بات کروں؟ وہ بے حد خوش ہوا قرشی کمپنی حطار میں بات کی ان کو سارا معاملہ بتایا۔انھوں نے حامی بھری اور کہا آپ اسے لےآو۔ چند دن بعد مہتاب نے کہا کہ گھر والے کہے رہے ہیں عید کے بعد جانا۔ میں سر پٹخ کے رہ گیا کیوں کہ مجھے اندازہ تھا کہ رمضان اس کے لیئے مشکلات کا باعث بنے گا۔
میں واپس چلا گیا اور رمضان کے پہلے ہفتے ہی مجھے بتایا گیا کہ مہتاب نے اپنی بیوی کو گولی مار دی ہو اور وہ مر گئی ہے پسماندہ ایک سالہ بچہ چھوڑا ہے۔ یقین کریں اس دن میں خوب رویا کیوں کہ فیملی کمپلائنس نہیں تھا میں یہ بھی نہیں چاہتا تھا کہ مہتاب گھر رکے۔ گھر والے اسے پاگل کہے کر چڑاتے تھے۔ آخر وہی ہوا جس کا اندیشہ تھا۔
جب اس نے گولی چلا دی تو اسے گھر کے ایک اندھیرے کمرے مین بند کر دیا گیا بعد ازاں گاؤں کے اوباشوں نے اسے تشدد کا نشانہ بنایا یہاں تک کہ اس کاUninary Bladder Ruptureہو گیا۔ اس نے پناہ کی خاطر پانی میں چھلانگ لگائی لیکن وہاں بھی نہ چھوڑا پولیس تماش بین بنی رہی پھر پولیس اسے لے گئی۔ اس کے خلاف سارا گاؤں اور اس ک اپنا خاندان بھی تھا اس کے خلاف کیس بھی اس کے اپنے ہی لڑ رہے تھے اس کا سوا خدا کے کوئی نہ تھا۔ 3 ماہ کے بعد میرا چکر لگا میں اسے جیل میں ملا اس نے سارا ماجرا سنایا۔ میں نے اس کی وکیلہ سے ملاقات کی جو کہ نہایت خلوص سے کیس لڑ رہی تھی۔ مجھے امید تھی کہ اسے زیادہ سزا نہیں دی جائے گی۔میں نے اس کی حکومتی ماہر نفسیات سے ملاقات کی جس سے مجھے اپنیDiagnosis Insight کا موقع ملا جو بلکل مماثلت رکھتا تھا جو ہم نے چند سال پہلے کی تھیں۔

میں واپس آیا اور اسلامی اور پاکستانی قوانین کا جائزہ لیا جن کی بنیاد کر Schizoid Personalityکو Flexibilityمل سکتی تھی۔ لیکن کچھ عرصہ بعد مجھے بتایا گیا کہ مہتاب کی جیل کے اندر لڑائی ہوئی اور اس کے سر میں ڈنڈے مار کر قتل کر دیا گیا۔ یقین کریں مجھے بے حد افسوس ہوا اور 2012 سے 2016 کا سارا دورانیہ میری آنکھوں کے سامنے تھا۔
کہ ہم خود ہی اپنی اولاد اپنے بھائیوں کے دشمن ہیں ہم خود ہی ان کو مختلف القاب سے نوازتے ہیں اور بعد میں ان سے بہت اچھا ہونے کی امید رکھتے ہیں۔ میں اس کیس میں مہتاب کو الزام نہیں دیتا کیوں کہ وہ ایم مریض تھا اس کا کیا قصور تھا اس کے بچے کا کیا قصور تھا۔ اس کی بیوی بھی بے گناہ قتل ہو گئی۔
میری تمام لوگوں سے گزارش ہے جب بھی کوئیAbnormality کی طرف جائے تو اس کا خیال رکھیں بجائے اسے مزید پریشان کرنے کے اس کا علاج کروائیں۔ ہر Deviant behavior پاگل نہیں ہوتا ہاں البتہGlobal Assessment funtioning Downہو سکتی ہے جسے بڑھایا جا سکتا ہے۔ صرف خاندان نہیں ہم سب کی زمہ داری ہے کہ نفسیاتی امراض میں مبتلا افراد کی زندگی اچھی بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ ہمارے ہاں Deviant Personalityکو یا تو پیر کہہ کر بے حد عزت دی جاتی ہے اور تا حیات اس کے جھنڈے لگائے جاتے ہیں یا پھر پاگل کہہ کر اسے ہمیشہ کے لیئے فنا کر دیا جاتا ہے۔
اوپر دیئے گئے کیس میں جگہ کا نام، کلائینٹ کا نام اصل نہیں ہیں۔ یہ کیس عوام میں شعور اجاگر کرنے کرنے کیئے شائع کیا گیا۔

I'm a paragraph. Click here to add your own text and edit me. I'm a great place for you to tell your story and let your visitors know a little more about you.